ابنا: یہ بات مخدوم جاوید ہاشمی نے نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں صدر آصف علی زرداری کے پارلیمان سے خطاب پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی آبادی دس کروڑ ہوگئی ہے اور انتظامی طور پر ممکن ہی نہیں کہ ایک انسپیکٹر جنرل پولیس اور چیف سیکریٹری عوام کو سہولت دے سکیں۔’ہم نے ملک توڑ دیا لیکن بنگالیوں کا مطالبہ نہیں مانا۔۔ بلوچستان میں بھی حالات خراب ہیں اور چند برسوں میں وہاں خون کی ندیاں بہیں گی۔‘انہوں نے کہا کہ ضیاءالحق کی کابینہ میں شمولیت پر وہ آج تک شرمندہ ہیں اور وہ اس غلطی پر پوری قوم سے معافی مانگتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جماعت کے قائد میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف سے بھی کہتے ہیں کہ وہ ضیاءالحق سے سیاسی تعاون اور پرویز مشرف سے سزا معاف کرواکر دس برس کے لیے باہر چلے جانے پر قوم سے معافی مانگیں۔جاوید ہاشمی نے میاں نواز شریف کی جلاوطنی کے دوران پارٹی کو سنبھالا اور پرویز مشرف پر کڑی تنقید کی وجہ سے بغاوت کے مقدمے میں جیل چلے گئے۔ اس دوران چوہدری نثار علی خان اپنے گھر میں نظر بند رہے۔ جب سنہ دو ہزار آٹھ میں انتخابات ہوئے تو جاوید ہاشمی کے بجائے پارٹی میں چوہدری نثار کی اہمیت بڑھ گئی اور ہاشمی پیچھے چلے گئے۔ ان کے بعض ساتھیوں کے بقول پارٹی میں نظر انداز کیے جانے پر انہیں گزشتہ برس برین ہیمرج ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کو رائےونڈ میں قید کیا گیا ہے اور انہیں اسمبلی میں آنے نہیں دیا جاتا۔’ہم پر تنقید ہوتی ہے کہ امریکہ سے ڈکٹیشن لیتے ہیں "لیکن کوئی سعودی عرب کی معرفت امریکی ڈکٹیشن لیتا ہے"۔۔ "کاش کوئی سعودی عرب سے کہے کہ پیغام رسانی بند کرو"۔‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110